Now streaming ஆகஸ்ட் 1, 2026
Hot pulse
India News

‘Provide evidence or apologise’: BJP on Omar Abdullah’s ‘Operation Lotus’ claim

Barbara Wilson - thedeshpost.com 1 min read 15 views

ادلہ پیش کریں یا معافی چاہیے: بھارتی جنرل کانگریس نے عمر ابدوللہ کے 'Operation Lotus' کا دعویٰ Thedeshpost.com – بھارتی جنرل کانگریس کی جانب سے جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ…

‘Provide evidence or apologise’: BJP on Omar Abdullah’s ‘Operation Lotus’ claim

ادلہ پیش کریں یا معافی چاہیے: بھارتی جنرل کانگریس نے عمر ابدوللہ کے ‘Operation Lotus’ کا دعویٰ

Thedeshpost.com – بھارتی جنرل کانگریس کی جانب سے جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر ابدوللہ کے خلاف “ادلہ پیش کریں یا معافی چاہیے” کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ابدوللہ نے اپنی حکومت کی مہم کے متعلق کیا دعویٰ پیش کیا ہے، اس کے خلاف بھارتی جنرل کانگریس کا نظریہ ہے۔ اس دعویٰ کی تصدیق یا اس کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے ادلاہ یا معافی چاہیے۔

بی جی پی کی تاریخی تنقید اور افواہوں کے بارے میں بیان

جموں و کشمیر کے علاقائی مہم کے متعلق دعویٰ پیش کرنے پر ابدوللہ کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا ہے۔ بھارتی جنرل کانگریس کے ملکی نمائندہ سودھانش تریوڈی نے یہ دعویٰ “بے بنیاد اور ذمہ داری سے مبرا” قرار دیا ہے۔ انہوں نے ابدوللہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس دعویٰ کی تصدیق کریں یا اس کے خلاف معافی چاہیے۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر ابدوللہ نے بے بنیاد افواہوں کا بیان دیا ہے کہ بھارتی جنرل کانگریس نے اپنی پارٹی سے نمائندہ سیٹیں لینے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس بارے میں اگر ادلاہ پیش کی جائیں یا معافی چاہیے تو ہم اس کی تائید کریں گے۔

دعویٰ کے تناقض اور حکومت کی کمزوری

بی جی پی کے مطالبات میں یہ ہرچودھری کے بیان کی تصدیق کا مطالبہ شامل ہے۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ابدوللہ کی مہم کے خلاف اس بیان کا جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ “ہم اس دعویٰ کیلئے ادلاہ پیش کریں یا معافی چاہیے” کی جریان ہے۔

“جموں و کشمیر میں 2014 کے انتخابات سے اب تک اگر بھارتی جنرل کانگریس نے ایک سچا بیان دیا ہے تو ہم اس کی سراہت کریں گے۔ لیکن اگر یہ دعویٰ سچا نہیں ہے تو ادلاہ پیش کریں یا معافی چاہیے۔” ہرچودھری نے واضح کیا۔

وزیراعلیٰ نے اپنے دعویٰ کی تصدیق کے لیے 20-30 کروڑ روپیہ کی پیشکش اور ایک وزارت کی دستیابی کا اعلان کرکے اس بیان کو حمایت میں لے لیا ہے۔ اس کا احتجاج کیا جا رہا ہے کہ یہ افواہ اس وقت کی کمزوریوں کو ڈھکنے کیلئے پیش کی گئی ہے۔

Operation Lotus کا اصل اور متنازعہ پہلو

Operation Lotus کے بارے میں جموں و کشمیر میں 2014 میں ہوئے انتخابات کے بعد سے گفتگو ہے۔ ابدوللہ کا دعویٰ ہے کہ بھارتی جنرل کانگریس کے ذریعے اس مہم کو جماعتی ہمدردی سے مزاحمت کی گئی ہے۔ لیکن بی جی پی کا موقف ہے کہ اس دعویٰ کیلئے ادلاہ پیش کریں یا معافی چاہیے۔

“ایک بھارتی جنرل کانگریس کے اہلکار، ایک سپریم کورٹ کے وکیل نے میرے جموں کے ایک نمائندہ کے خصوصی کمرے میں کہا کہ ہم 20-30 کروڑ روپیہ اور ایک وزارت دے دیں گے، آپ ہماری طرف چلی جائیں۔ اس بیان کی تصدیق کریں یا معافی چاہیے۔” وزیراعلیٰ کا بیان اپنے پہلو سے ہے۔

بی جی پی کے مطابق، ابدوللہ کی مہم میں یہ افواہ پیش کرنا اس کی غفلت کا نتیجہ ہے۔ اس مہم کے سلسلہ میں ایک اہلکار نے ایک نمائندہ کے خصوصی کمرے میں 20-30 کروڑ روپیہ کی پیشکش کی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ کی سیاسی حکمت عملی میں اب تک کے اپنے میں افواہ کی کمزوری سامنے آئی ہے۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ کا دعویٰ کرنا ہے کہ بھارتی جنرل کانگریس نے اپنی پارٹی سے نمائندہ سیٹیں لینے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے خلاف اگر ادلاہ پیش کریں یا معافی چاہیے تو ہم اس کیلئے جائزہ لے کر کہا جائے گا۔

ادلہ پیش کریں یا معافی چاہیے: بی جی پی نے ابدوللہ کے دعویٰ کی تصدیق کے لی

Gabung diskusi